یادوں کی سرگرد
بکھرے ہے فرش پر
ان پر چل کر
منزل مکام تک پہنچنا بھی ہے
یہ یادیں کبھی پیروں مے گدگداتی ہے
کبھی ان یادوں سے ہوتی ہے الجھن
لیکن سچ
اب اتنا مزہ آنے لگا ہے
اس سفر مے
کی یاد نہیں
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
جب نکلا تھا ان یادوں کے سفر پر
ٹیب پاؤں نازک تھے
آج شاید اتنے نازک نا رہے ہو
لیکن سچ اب اتنا مزہ آتا ہے
کی بھول گئے ہے
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
ان یادوں مے کی زایکے چھپے ہے
کی کھاتے میٹھے زایکے
ایسے زایکے کی من کرتا ہے
اب انھ ہی چکھتا جاؤں
ان یادوں کو چکھنے ،مے
بھول گیا ہوں کی
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
ان یادوں مے چھپی ہے
دوستوں کی شیطانیاں
امی کا دلار ، نانی کا پیار
سب کچھ
اب ان یادوں کو یاد کرکے
اتنا مزا آتا ہے
کی بھول گئے تھے
جوٹ کہاں اتارے تھے ہمنے
بکھرے ہے فرش پر
ان پر چل کر
منزل مکام تک پہنچنا بھی ہے
یہ یادیں کبھی پیروں مے گدگداتی ہے
کبھی ان یادوں سے ہوتی ہے الجھن
لیکن سچ
اب اتنا مزہ آنے لگا ہے
اس سفر مے
کی یاد نہیں
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
جب نکلا تھا ان یادوں کے سفر پر
ٹیب پاؤں نازک تھے
آج شاید اتنے نازک نا رہے ہو
لیکن سچ اب اتنا مزہ آتا ہے
کی بھول گئے ہے
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
ان یادوں مے کی زایکے چھپے ہے
کی کھاتے میٹھے زایکے
ایسے زایکے کی من کرتا ہے
اب انھ ہی چکھتا جاؤں
ان یادوں کو چکھنے ،مے
بھول گیا ہوں کی
جوتے کہاں اتارے تھے ہمنے
ان یادوں مے چھپی ہے
دوستوں کی شیطانیاں
امی کا دلار ، نانی کا پیار
سب کچھ
اب ان یادوں کو یاد کرکے
اتنا مزا آتا ہے
کی بھول گئے تھے
جوٹ کہاں اتارے تھے ہمنے
No comments:
Post a Comment